فدک، معتبرترین تاریخی دستاویز - 2
بہر حال اس بات کا جواب ڈھونڈنا بہت ہی دشوار ہے کہ خلیفہ نے ایسا کیوں کیا اور فدک اور ساری دولت و جائیداد اہل بیت سے کیوں چھینی؟ کیوں کہ حدیث سے تو عدم ارث والی بات ثابت نہ ہوسکی۔ اب یہ نہیں معلوم کہ اس کا نام حسد رکھا جاسکتا ہے یا نہیں مگر یہ ظلم اور غصب کے زمرے سے خارج نہیں ہوسکتا۔ اور اگر یہ حدیث واقعی تھی اور تمام عقلی اور نقلی موانع کے باوجود فرض کیا جائے کہ رسول اکرم سے نقل ہوئی تھی تو پھر تو رسول اکرم کا ترکہ صدقہ تھا اور جوتے، تلوار اور گھوڑا بھی صدقہ ہی ہوگا جبکہ علی (ع) اور اہل بیت علیہم السلام پر صدقہ حرام تھا۔ چنانچہ نہ تو علی (ع) صدقہ لینے پر راضی ہوسکتے تھے اور نہ ہی خلیفہ صدقے کی پیشکش کرسکتے تھے اور پھر وہ جو علی اور فاطمہ علیہماالسلام کا حق لیکر صدقے میں تبدیل کررہے تھے اور اس کے لئے اس قسم کی حدیث کا سہارا لے رہے تھے تو وہ صدقہ ـ جو شرعا اہل بیت پر حرام تھا ـ کیونکر انہیں پیش کردیتے؟ چنانچہ ثابت ہوتا ہے کہ جس مال و ملک میں رحمت و شفقت و تفضل کی گنجائش ہو اس کے لئے کوئی شرعی مانع نہیں ہوتا اور شرعی مانع ہو تو ایک خلیفہ کو اس میں کسی بھی عنوان سے استثناء کا قائل ہونا ناقابل قبول ہوگا اور اگر تصور کیا جائے کہ حدیث صحیح تھی تو ان کا یہ تفضل امر حرام تھا اور اب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کا حاکم کیونکر حرام کا مرتکب ہوسکتا ہے؟ آپ خود ہی سوچ لیں۔ اور ہاں! فدک تو اس یہ ثابت ہوچکا کہ وہ رسول اللہ (ص) نے اپنی زندگی میں ہی اپنی بیٹی کو عطا فرمایا تھا اور وہ ارث کا حصہ نہیں تھا چنانچہ اس پر سرکار کا قبضہ اعلانیہ طور پر غصب کے زمرے میں آتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات اور مترجم کی توضیحات و ضمیمہ جات:1۔ مسند ابی یعلی ج2 ص534۔2۔ سورہ نمل آیت 16۔3۔ سورہ نمل آیت 164۔ الطبقات الکبری ـ ابن سعد ـ ج2 ص315۔5۔ سورة العلق آیت 1۔حدیث لانورث ما ترکناہ صدقہ کا افسانہ الگ مقالے کی شکل میں بھی آرہا ہے۔6۔ اہل سنت کے معتبر منابع نے صحابہ کے ایک گروہ سے روایت کی ہے: "اول من اسلم علی علیہ السلام" = سب سے پہلے علی علیہ السلام ایمان لے آئے (یعنی علی علیہ السلام وہ سابق الاسلام ہیں جن پر کوئی سبقت حاصل نہیں کرسکا ہے)۔ جن منابع نے گروہ صحابہ سے روایت کی ہے وہ کچھ یوں ہیں:الف) زید بن ارقم سے بسند صحیح سنن الترمذی ج5 ص600 ـ حدیث نمبر 3735 کتاب المناقب ب21 ـ مسند احمد بن حنبل ج4 ص371 و ص368- مستدرک علی الصحیحین حاکم نیسابوری و التخلیص ذهبی ج3 ص136، نے روایت کی ہے۔ب) سلمان فارسی سے مستدرک حاکم ج3 ص136 ـ مجمع الزوائد ابن کثیر ج9 ص 124 کتاب المناقب باب 4-4 حدیث 14599، نے بسند صحیح روایت کی ہے ج) عبد اللہ بن عباس: مستدرک حاکم ج3 ص465 نے بسند صحیح عبد اللہ بن عباس سی روایت کی ہے۔د) سعد ابن ابی وقاص: مستدرک حاکم و التخلیص ذهبی ج3 ص499 نے بسند صحیح سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ہے۔ھ) معقل بن یسار سے بسند صحیح مسند ابن حنبل ج5 ص126 و مجمع الزوائد ابن کثیر ج9 ص123 کتاب المناقب باب 37 ـ 4- 4 اسلامه علیه السلام ح14595 نے،و) عائشہ سے بسند صحیح الاصابة فی تمییز الصحابة میں ابن کثیر ج8 ص183 نے،ز) قثم بن عباس سے بسند صحیح مستدرک حاکم ج3 ص125 نے اور ہ) علی علیہ السلام سے بسند صحیح مستدرک حاکم ج3 ص125 نے روایت کی ہے۔7۔ پیغمبر اکرم (ص) کا یہ کلام کہ "السلام علیکم یا اہل البیت" جس کے دلائل اگلے صفحات میں ذکر ہونگے، اس حقیقت کا ثبوت ہے۔8۔ رسول اکرم (ص) سے باسناد صحیح تواتر کے ساتھ روایت ہوئی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: انّی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ و عترتی اہل بیتی (= میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں : کتاب خداوندی اور میری عترت یعنی اہل بیت علیہم السلام) اس کے منابع و مآخذ اتنے زیادہ ہیں کہ ذکر منابع کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی مگر نمونے کے عنوان سے بعض منابع یہان ذکر کئے جاتے ہیں: صحیح مسلم ج5 ص25 ح36 ـ (2408) و ص36 ح37 و سنن ترمذی ج5 ب32 ح621 و سنن نسائی ج5 ص45 و مسند احمد بن حنبل ج3 ص17 و مسند ابی یعلی ج4 ص297 و کتاب السنة الشیبانی ص 629 و معجم الکبیر للطبرانی ج5 ص166 رقم 4169۔9۔ بہت سے معتبر سنی منابع میں آیت تطہیر (إِنَّمَا يُرِيدُ اللہ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا) کی شأن نزول "حضرت فاطمہ، آپ کے والد، خاوند اور دو بیٹوں کے بارے میں بیان ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر سنن الترمذی ج5 ص621 رقم 3781 ـ خصائص النسائی صفحہ 4 مسند احمد بن حنبل ج6 ص298۔ حسکانی نے بھی شواهد التنزیل میں اس بات کی تأئید میں 30 حدیثیں ثبت کی ہیں۔10۔ ان النبی (ص) کان اذ اطلع الفجر یمر ببیت علی و فاطمة فیقول السلام علیکم یا اهل البیت الصلاة " إِنَّمَا يُرِيدُ اللہ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا" اسدالغابة ـ ابن اثیر ـ ج5 صفحہ 174 ـ داراحیاء التراث العربی ـ نبی اکرم (ص) جب بھی نماز فجر کی لئے اٹھتے اور علی و فاطمہ سلام اللہ علیہما کے گھر کے سامنے سے گذرتے تو فرماتے: سلام ہو تم پر اے اہل بیت ـ الصلاة الصلاة ـ اور خدا نے ارادہ فرمایا ہے الی آخر۔۔۔11۔ جب آیت مباهله " فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللہ عَلَى الْكَاذِبِينَ" (آل عمران 61) نازل ہوئی رسول اللہ (ص) نے علی و فاطمہ و حسن و حسین علیہم السلام کو بلایا اور فرمایا خدا یا! یہ میرے اہل ہیں۔ صحیح مسلم ج5 فضائل الصحابة باب فضائل علی ابن ابی طالب سلام اللہ علیہما ص23 ح32۔12۔ سورہ نجم آیات 3 و 4۔13۔ صحیح بخاری ج3 ص96 کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم باب مناقب فاطمة سلام اللہ علیہا۔14۔ سورہ حشر آیت 6۔ ترجمہ: اور جو کچھ خدا نے ان سے اپنے رسول (ص) کی طرف لوٹایا ہے، ایسی چیز ہے جس کے حصول کے لئے نہ تو تم (مسلمانوں) نے گھوڑے دوڑائے ہیں نہ ہی اونٹ، مگر خدا اپنے رسل کو جس پر چاہے مسلط کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔15۔ سورہ اسراء آیت 26۔ ترجمہ: اور قرابت دار کو اس کا حق دے دو۔16۔ مسند ابی یعلی ج2 ص534 ح436 ۔ 1408، دار المأمون للتراث بیروت و تفسیر الدرالمنثور ج5 صص273 و 274۔17۔ معجم البلدان ج4 ص238۔18۔ معجم البلدان ج4 ص239۔19۔ معجم البلدان ج4 ص239۔20۔ معجم البلدان ج4 ص240۔21۔ سورہ توبہ آیت 128۔22۔ انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نماز فجر کے لئے نکلتے تو فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر کے سامنے سے گذرتے اور فرماتے " الصلاة الصلاة یا اھل البیت - إِنَّمَا يُرِيدُ اللہ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ـ درالمنثور ـ سیوطی ـ ج6 ص605- منقول از ابن ابی شیبة ـ احمد ابن حنبل ـ ترمذی ـ ابن جریر طبری ـ ابن المنذر ـ الطبرانی ـ الحاکم اور ابن مردویه۔23۔ صحیح بخاری ج3 ص 96۔24۔ کنزالعمال ج13 ص674 ح73725۔25۔ سیر اعلام النبلاء ج2 ص224۔26۔ عن عائشة ان فاطمة بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) ارسلت الی ابی بکر تسأله میراثها من رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) مما افاء اللہ علیه بالمدینة و فدک و مابقی من خمس خیبر فقال ابوبکر: ان رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) قال: لا نورث ما ترکنا صدقة، انما یأکل آل محمد فی هذا المال و انی و اللہ لا اغیر شیئا من صدقة رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) عن حالها التی کان علیها فی عهد رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم ) و لاعملن فیها بما عمل به رسول اللہ (صلی اللہ علیه و آله و سلم )۔ فابی ابوبکر ان یدفع الی فاطمة منها شیئا فوجدت فاطمة ===== علی ابی بکر فی ذالک فهجرته فلم تکلمه حتی توفیت و عاشت فاطمة (سلام اللہ علیها) بعد النبی(صلی اللہ علیه وآله و سلم )ستة اشهر فلما توفیت دفنها زوجهاعلی(علیه السلام) ¬ لیلا و لم یؤذن بها ابابکر و صلی علیها۔ (صحیح بخاری ج3 ص252 کتاب المغازی باب 155- غزوة خیبر حدیث 704)27۔ سورہ حشر آیت 6۔28۔ سورہ حشر آیت 7۔29۔ "فَیئ" کی یہ قسم بظاہر وہ اموال اور آمدنیاں ہیں جو کفار کے مفتوحہ علاقوں سے جزیہ اور خراج یا مفتوحہ زمینوں، جنگلات وغیرہ سے حاصل ہوتی ہیں کیوں کہ جنگ کے دوران حاصل والے اموال غنیمت کے زمرے میں آتے ہیں اور سورہ انفال کی آیت 41 میں اس کا حکم دیگر آمدنیوں کے ضمن میں بیان ہؤا ہے (مترجم)۔30۔ اور بستیوں والوں کا جو کچھ (مال و مِلک) اللہ تعالی اپنے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا اور رسول کے قرابتداروں اور یتیموں، مسکینوں کا اور راستے میں (بے خرچ) رہنے والے مسافروں کا ہے تا کہ تمہارے دولتمندوں کے ہاتھ میں ہے یہ مال گردش کرتا نہ رہ جائے(حشر 7)یعنی یہ کہ فیئ غنیمت کی مانند نہیں ہے جس کا صرف پانچواں حصہ پیغمبر اکرم اور ضرورتمندوں کے لئے ہو اور باقی چار حصے جنگ میں شریک مجاہدین کے لئے ہو۔ اس آیت میں فیئ کی تقسیم کے لئے ترجیحات بیان کی گئی ہیں۔ اور ان کا اختیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس ہے گو کہ رسول اللہ ان اموال کو اپنی ذات کے لئے نہیں چاہتے بلکہ اسلامی حکومت کے رہبر اور امت کے زمامدار کی حیثیت سے وہ انہیں رفاہ عامہ کے کاموں میں ہی مصرف کرتے ہیں لیکن اگر وہ خود ان اموال میں بھی کوئی مصلحت تشخیص دین تو آپ (ص) کا اختیار ہے ۔ اسی آیت کے آخر میں ارشاد ہے : وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللہ إِنَّ اللہ شَدِيدُ الْعِقَابِ (= جو کچھ رسول اللہ (ص) تمہیں عطا کرتے ہیں (اور جو کچھ تمہارے لائے ہیں) وہ تم لے لو (اور اس پر عمل کرو اور اکتفا کرو) اور جن چیزوں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمہیں روکا ہے، ان سے پرہیز کرو اور اور خدا سے درو کیونکہ خدا کا کیفر بہت شدید ہے۔) یہاں ان لوگوں کا جواب واضح طور پر دیا گیا ہے جو فیئ کی تقسیم کے حوالے سے اعتراض کررہے تھے۔ اور واضح ہوتا ہے کہ ان کا اختیار رسول اللہ کے پاس ہے اور کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔ (مترجم)31۔ سورہ انفال آیت 41۔32۔ آیت کا مذکورہ بالا ترجمہ اہل سنت کے تراجم سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔ جہاں اہل سنت کے مترجمین و بعض مفسرین نے کہا ہے کہ غنمتم من شیئ سے مراد یہ ہے کہ تم جس قسم کی جوکچھ غنیمت حاصل کرو اور اس کی تفسیر میں "من شیئ" (اور جو کچھ) سے تھوڑا یا زیادہ یا قیمتی یا سستا مراد لی گئی ہے۔ (ترجمہ و تفسیر مولوی محمد جوناگرھی مطبوعہ شاہ فہد پرنتنگ پریس 1417 ھ مدینہ منورہ ) جبکہ شیعہ تراجم میں قرآنی آیت کے ظاہری مفہوم کا پورا پورا خیال رکھا گیا ہے اور آیت کا ترجمہ کچھ یوں ہے: اور جان لو کہ تمہیں جس چیز سے بھی فائدہ (آمدنی) حاصل ہو۔ ہم کہتے ہیں کہ خدا کے پاس جو خود حرف اور لفظ کا خالق ہے اور اسی نے انسانوں کو بولنا اور لکھنا سکھایا ہے، الفاظ کی کمی نہ تھی ا